About Us

ملک ہندوستان کا اسلام اور مسلمانوں کے لئے بڑی اعلی درجے کی خدمات ہے، اور یہ وہ ملک ہے جس نےمغلیہ دور حکومت سے لے کر آج تک بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور اسلامی مدارس قائم کئے ۔حالانکہ دشمنان اسلام کی سرکشیاں حد سے متجاوز ہو چکی تھی،جنہوں نے اسلامی عبادت گاہوں کو ختم کرکے اور مسلمانوں کے بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرکے ان کے گھروں کو جلا کر اسلام اورمسلمانوں کی بگڑی ہوئی شکل پیش کرکے نیست و نابود کر دیا تھا۔ دشمنان اسلام کی طرف سے دین ورسالت کے خاتمے کے سلسلے میں پیش آنے والے ان چیلنجوں کے باوجود انہوں نے ایسے دین کے سلسلے میں جوکیا تھا وہ انسانیت کے لئے نعمت عظمیٰ اور اسوۂحسنہ کی حیثیت رکھتا ہے اور کفروضلالت کی تاریکیوں میں روشنی کا کام کرتا ہے ۔لیکن مسلمان برابر مختلف طریقوں سے اسلام کی نشرواشاعت میں لگے رہے ،کتابوں کی تصنیف، مناظرہ اور اسلامی عربی مدارس کا قیام مد نظر رہا ،جس نے بے شمار علماء ،حفاظ، قراء اور ادباء کو جنم دیا ،جنہوں نے اپنی عمدہ قلم اور پختہ علمی صلاحیت کو کام میں لا کر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی اور عرب و عجم میں مقبولیت حاصل کی۔ جامعہ خدیجۃ الکبری ہندو نیپال کی سرحد پر علوم اسلامی کاعظیم مرکزا وررشدوہدایت کی تحریک بن کر دین و شریعت کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے کی شدت سے ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ اس کے گردونواح میں جہالت و قادیانیت کا دور دورہ تھا ،ہر طرف بدعات وخرافات کی زہریلی فضا عام تھی، کافی دور تک کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جو خالص روحانیت کا سرچشمہ اور اہلسنت والجماعت کا ترجمان ہو اور تعلیم و افادیت کا نگہبان ہو ۔خصوصًا یتیم بچوں کی تربیت اور ان کے مستقبل کو سنوار نے، انہیں اچھے اخلاق اور اعلیٰ تعلیم کے اعتبار سے یہ ادارہ جداگانہ حیثیت رکھتا ہے، اگر کچھ ادارے تھے اور ہیں بھی تو وہ حکومت کے زیر اثر ہیں اور روحانیت و تقدس سے یکسر محروم ہیں۔ شہر نرکٹیاگنج تجارت کے میدان اور شکر (چینی )کی پیداوار میں مشہور ہے ،چونکہ قریب کی بستیوں کے باشندگان گنے کی کھیتی کرتے ہیں اور اس علاقے میں گنے کی فیکٹریاں بھی پائی جاتی ہیں۔مسلم آبادی اس شہر میں 15 فیصد ہےاور مسلمانوں کی تعلیم بھی کمزور ہے ،خاص طور پر علوم دینیہ ۔چونکہ یہ شہر ہندوستان کے مختلف شہروں سے الگ ہے اور اس کی وجہ سے اسلامی ادارے کا لعدم ہیں ،جو بچوں اور بچیوں کی رہنمائی کر سکیں۔ ہندوستان میں دشمنان اسلام کی طرف سے ہمارے مسلمان بھائیوں کو جوتنگیاں اور چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، جس کا تذکرہ پہلے بھی ہو چکا ہے ۔مسلمانوں کی اقتصادی اور مالی حالات بہتر نہیں ہیں جو ادارے کی ضروریات کو پوری کر سکیں اور اشاعت دین واسلام کی فریضہ کو ادا کر سکیں۔ لہذا جامعہ اپنے مخلصوںاور ہمدردوں سے اصلاح معاشرہ ،حقوق نسواں ،دعوت و تبلیغ اور تحریک پیام انسانیت کے میدان میں دل کھول کر حصہ لینے اور ان کے لئے دعا کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ .

ہمارا مقصد

آج ہر سو افراتفری پھیلی ہوئی ہے جس کی خاص وجہ جاہلانہ اور بگڑا ہوا معاشرہ ہے،اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ تعمیر معاشرہ میں عورتوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے، لہذا ایک خوشگوار ،سلیقہ مند اور تعلیم سے آراستہ ماکشرہ کے لئے ضروری ہے کہ بچووں کو اچھی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کیا جائے، ان کی ذہنیت کو اسلامی تعلیم اور اسوۂ صحابیہ سے ممولر کیا جائے ،اور ان کے اندر ضروریات زندگی کو خودسے پورا کرنے کا ہرہ اور معاشرتی بیداری پیدا کی جائے، تاکہ اس کی روشنی میں ہمارے معاشرے کے اندر مہذب اور باصلاحیت افراد کا وجود عمل میں آسکے۔ انہیں باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جامعہ خدیجۃ الکبریٰ میں عام بچویں کے ساتھ ساتھ غریب ونادار بچومں کی تعلیم کا نظم کیا گیا ہے ،جس میں دینی تعلیم (حفظ قرآن،عربی درجات)کے ساتھ ساتھ بچوتں کو عصری تعلیم(میٹرک ،انٹر ،ڈپلومہ)کمپیوٹر ،سلائی بنائی اور کشیدہ کاری وغیرہ سکھایا جاتا ہے۔ جن بچوظں کی ابتدائی عمر عموما چھ سے نو سال کی ہوتی ہے ،نیز یتیم بچونں کی تعلیم وتربیت اور انکی مکمل کفالت کے ساتھ انکی شادی کا نظم کرنا بھی جامعہ کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔ .

ہمارا منصوبہ

جامعہ خدیجۃ الکبری ہندو نیپال کی سرحد پر علوم اسلامی کاعظیم مرکزا وررشدوہدایت کی تحریک بن کر دین و شریعت کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے کی شدت سے ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ اس کے گردونواح میں جہالت و قادیانیت کا دور دورہ تھا ،ہر طرف بدعات وخرافات کی زہریلی فضا عام تھی، کافی دور تک کوئی ایسا ادارہ نہیں تھا جو خالص روحانیت کا سرچشمہ اور اہلسنت والجماعت کا ترجمان ہو اور تعلیم و افادیت کا نگہبان ہو ۔خصوصًا یتیم بچواں کی تعلیم وتربیت اور ان کے مستقبل کو سنوار نے، انہیں اچھے اخلاق اور اعلیٰ تعلیم کے اعتبار سے یہ ادارہ جداگانہ حیثیت رکھتا ہے، اگر کچھ ادارے تھے اور ہیں بھی تو وہ حکومت کے زیر اثر ہیں اور روحانیت و تقدس سے یکسر محروم ہیں۔ .

ہمارے خیال

اللہ رب العزت نے ہر دور میں قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج و اشاعت کے لیے مختلف ذرائع پیدا کئےہیں، مدارس دینیہ کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔تاریخ ہند کے اس دور کو بھلایا نہیں جاسکتا جبکہ ملت اسلامیہ کا صحیح عقائد پر باقی رہنا دشوار ترین امر تھا ،ہر سو ظلمت و تاریکی کی گھنگھور گاٹنچھائی ہوئی تھی بدعت ولا دینیت ہر سو عام تھا۔ ایسے پر آشوب پر فتن اور حوصلہ شکن حالات میں ایک درویش صفت عالی منقبت خانقاہ ہارونیہ (کھیرا کٹی بگاب ،مغربی چمپارن،بہار) کے خوشہ چیں حضرت الحاج صوفئ باکمال جناب معین الدین صاحب نقشبندی دامت برکاتہم نے ۲۰۰۴ء میں سرچشمہ علم و معرفت منبع علم و حکم امہات المؤمنین زوجہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ کی بنیاد ڈالی۔ تعلیم نسواں اصلاح معاشرہ حقوق نسواں دعوت و تبلیغ اور مدارس دینیہ کے قیام کی اہمیت وافادیت اور اس کے مقاصد کو جامعہ کے ذریعہ تقویت دی۔ مغربی چمپارن کے مدارس عربیہ میں جامعہ کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے،جامعہ تعلیم و تبلیغ اشاعت دین اور قوم و ملت کی آبیاری اپنے خون و جگر سے کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ .

For more Information

.

Call To Action

ہماری مہارت

Quran 100%
Arabic 100%
Urdu 100%
Diniyat 55%

Gallary

  • All
  • Students
  • Madarsa
  • Construction

JKK

Image

JKK

Image

JKK

Image

JKK

Image

JKK

Image

JKK

Image

JKK

Image

JKK

Image

JKK

Image

Awards

People Visited

Management

Damat Barkatahu Hazrat Maulana Moein Saheb Naqshabandi

Chairman

Mohammad Mohiuddin

Manager

Principal

ABC

Accountant

Contact Us

Address

Jamia Khadijatul Kubra, Mohalla purani Bazar, Narkatiaganj District West, Champaran Bihar 845455

Phone Number

+91-9431248952

Your message has been sent. Thank you!